Prof Nomad’s Ramazan Essay Competition

Artwork by Kiran Mahboob

ENGLISH                                                            URDU

1st prize: 250 Australian Dollars

2nd prize: 200 Australian Dollars

3rd prize: 150 Australian Dollars

ُاس سیاسی و سماجی پس منظر پر روشنی ڈالئےجس کے باعث جلالی اسلامی کلینڈر کی جگہ موجودہ اسلامی کلینڈر کا استعمال شروع ہوا، اور اسکے مسلم دنیا پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
پس منظر: عمر خیام اور دیگر علماکرام نے ۱۰۷۹ عیسوی میں ایک شمسی اسلامی کلینڈر یا جلالی کلینڈر متعارف کروایا۔ جلالی کلینڈرحضوراکرمٌ ُکے زمانے سے رائج ُاس شمسی قمری کلینڈر سے ِاس لحاظ سے مختلف تھا کے اس کلینڈر میں موسموں اور مہینوں میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہر چند سال میں مہینوں کا اضافہ ضروری نہیں تھا مثلاً جلالی کلینڈر میں حج کا مہینہ ہمیشہ سال کے ایک مخصوص موسم میں ہی آتااور یہ ترتیب برقرار رکھنے کے لیے پرانے شمسی قمری کلینڈر کے برعکس سال بہ سال مہینوں کے اضافہ کی ضرورت نہیں تھی۔ حج کے بارے میں یہ یاد رہے کہ اسلام کی آمد سے قبل بھی سرزمینِ حجاز میں حج کا انعقاد موسمِ بہار کے ایک تجارتی تہوار کے طور پر ہوتا تھا جس میں دور دراز سے آئے تجارتی قافلے تجارتی مال کی خریدوفروخت کے لئے شریک ہوتے تھے۔ حج کا انعقاد عموماً مارچ کے مہنہ میں ہوتا جب موسم معتدل ہوتا اور بہار کے موسم کا آغاز ہورہا ہوتا تھا اسی طرح رمضان کا انعقادعموماً سردیوں کے عروج یعنی دسمبر کے مہینہ میں ہوتا جب اناج کی قلت، دن چھوٹے، اور موسم ٹھنڈا ہوتا چناچہ یہ وقت اناج کی بچت اور صحرا میں بھوک وپیاس کی شدت کا مقابلہ کرتے ہوئے روزہ رکھنے کے لیے موزوں ترین ہوتا۔ آج بھی ایران اور افغانستان میں سرکاری سطح پر جلالی کلینڈر کا ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

Submission guidelines:

Submission deadline: 27th of Ramazan, 1441 AH

Eligibility: This competition is open to all.

Language: English, Urdu

Length: No more than 2500 words

Cover page: Include your name, e-mail address, and the title of the essay

References: Please include all references cited or used to develop your essay on a separate page.

 

Winners will be announced after Eid, 1441 AH

 

SUBMIT YOUR ESSAY HERE

Join us on Facebook

Follow us on Twitter